کاروار21؍دسمبر (ایس او نیوز) ہوناورعلاقہ سے تعلق رکھنے والے پریش میستا نامی نوجوان کی موت کے بعد کمٹہ اور سرسی میں پولس کے ساتھ ہوئی شرپسندوں کی جھڑپوں کے بعد پولس نے 180افراد کو گرفتار کیا ہے ۔ سپر نٹنڈنٹ پولیس ونائک پاٹل نے بتایا کہ تمام گرفتاریاں سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جھڑپوں میں جن جن لوگوں نے حصہ لیا ہے، اُن میں سے کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔
ایس پی نے کہا کہ اس علاقہ میں تشدد پھیلانے والے افراد کو پکڑنے کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ایسے افراد کے خلاف جنہوں نے تشدد کے لئے اکسا یا ہے کارروائی کی جائے گی۔ کسی بھی بے گناہ کو سلاخوں کے پیچھے نہیں ڈالا جائے گا کیوں کہ ہر گرفتار شخص کے خلاف معاملہ درج کرنے سے پہلے اس کے پس منظر کی جانچ کی گئی ہے۔ ہوناور ،کمٹہ اور سرسی علاقوں میں پریش میستا کی موت پر کئی دنوں کے تشدد کے بعد حالات معمول کے مطابق آگئے ہیں۔ محکمہ پولیس اس علاقہ میں سکیورٹی کی برقراری کا فیصلہ کرے گا۔ خیال رہے کہ پریش میستا کی موت کے بعد گھروالوں نے مسلم نوجوانوں پر نشانہ تاکتے ہوئے کہا تھا کہ پریش میستا کی موت کے پیچھے مسلم لوگوں کا ہاتھ ہے اور اُسے اذیتیں دیتے کر ہلاک کیا گیا ہے ۔ بی جے پی اور ہندو توا تنظیموں نے دسمبر کے پہلے ہفتہ میں اس واقعہ کے خلاف بند کی اپیل کی تھی۔ تاہم پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں احتجاجیوں کے دعوے کی تردید ہوگئی تھی اور یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ پریش میستا کے بدن پر ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا کوئی نشان نہیں تھا اور نہ ہی گرم پانی پھینکنے یا سوئی چبھونے کا کوئی ثبوت ملا ہے۔
49 لوگوں کی ملی ضمانت:
پریش میستا کی موت کے بعد ہوئی گرفتاریوں میں بدھ کو عدالت نے 49 لوگوں کو ضمانت پر رہا کئے جانے کی ہدایت دی ہے جس میں کمٹہ میں 11/ ڈسمبر کو بی جے پی اور سنگھ پریوار کے کارکنوں کی پولس پر حملہ کئے جانے کے تعلق سے ہوئی گرفتاریوں کے 23 لوگ بھی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ کمٹہ میں شرپسندوں نے انسپکٹر جنرل آف پولس ہیمنت نمبالکر کی کار کو نذر آتش کردیا تھا اور کار پر موجود ڈرائیور کو باہر کھینچ کر اُس کے سر پر بوتل سے حملہ کرکے اُسے بری طرح زخمی کردیا تھا۔